ریاست ناقابل تقسیم،آزادکشمیر کے عوام شناخت تبدیل نہیں کرنے دیں گے،مسلم کانفرنس

ارجہ (سیاست نیوز)آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق احمد خان نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر سے لفظ آزاد کو حذف کرنا اور خود وزیر اعظم آزادکشمیر کا بیان سنگین خطرے کی علامت ہے۔ہم کبھی بھی اپنے کردار دسے غفلت کا مظاہرہ کرسکتے اور نہ ہی ریاست جو تقسیم ہونے دے سکتے ہیں۔مسلم کانفرنس اپنی 19جولائی 1947؁ء سری نگر اور 23اگست 1947نیلہ بٹ کے مقام سے مجاہد اول نے جو موقف لیاتھا۔اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اور اسی پر قائم ہیں۔ آزادجموں وکشمیر کی قرار داد 1946؁ء میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے وادی،جموں اور سابق ریاست پونچھ کے عمائدین کی مشاورت سے متفقہ طور پر قرار داد منظور کرکے آزادجموں وکشمیرنام رکھا گیاتھا۔ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے نذدیک ریاست جموں وکشمیر کا مقصد مہاراجہ ہری سنگ کی وہ ریاست ہے جو 13اگست 1947کو رات 12بجے تک موجود تھی۔ آزادجموں وکشمیرکے عوام کا اپنا اسٹیٹ سبجکٹ ہے۔ چاہے اسے مودی تبدیل کرے یا پاکستان کی کوئی حکومت تبدیل کرے یا منسوخ کرے آزادجموں وکشمیرکے عوام اسے کسی صورت قبول نہٰں کریں گے۔ گلگت بلتستان میں آزادی کا تناسب بیگاڑنے کیلئے کیے گئے اقدامات کو مسلم کانفرنس مسترد کرتی ہے۔ مسلم کانفرنس ریاست کی وحدت پر یقین رکھتی ہے۔ اور اسے نا قابل تقسیم سمجھتی ہے۔ سروسز ہوں یونیورسٹریز ہوں یا کوئی بھی ادارہ ہے۔ یہ جو لفظ آزادجموں وکشمیرہے۔ اس کے پیچھے لاکھوں شہداء کی قربانیاں ہیں اور اس سے دستبرداری کا مطلب آزادی سے دستبرداری ہوناہے۔شہداء کی قربانیوں کو فراموش کرنا ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔ مسلم کانفرنس نے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر جو قرارداد الحاق پاکستان منظور کی تھی آزادجموں وکشمیرگلگت بلتستان اسی قرارداد الحاق پاکستان کا نتیجہ ہے۔ موجودہ حالات میں رائے شماری کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے پوچھا جانا ضروری ہے۔ کہ ان لوگوں نے ہندوستان یا پاکستان کس کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ موجودہ اقدامات خطرے اور تشویش کا باعث ہیں۔ اور پھر آزادکشمیر کے وزیر اعظم کی طرف سے یہ کہنا کہ مجھے کہاگیاہے کہ میں آزادجموں وکشمیرکا آخری وزیر اعظم ہوں سارے نظام کو مشکوک بنانے اور سارے نظام پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے۔

متعلقہ خبریں