قومی شجرکاری مہم کا افتتاح،منصوبہ کی کامیابی جنگلات کیلئے بڑا چیلنج ہے،فاروق حیدر

مظفرآباد (سیاست نیوز)وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کے جنگلات قدرتی ماحولیاتی نظام کی بقاء، دھرتی کے حسن میں اضافہ، زرعی و صنعتی معیشت کے استحکام اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ ریاست بھر میں رواں سال شجر کاری کو کامیاب بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔جہلم ویلی اور نیلم ویلی کی مرکزی شاہرات کے دونوں اطراف زیادہ سے زیادہ شجر کاری کریں تاکہ لینڈ سلائیڈنگ میں بھی کمی آ سکے۔ پروٹیکشن کمیٹیاں بنائی جائیں تاکہ درختوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ شجرکاری و شجر پروری اور جنگلات کی حفاظت کرنا صرف حکومت اور محکمہ جنگلات کی ذمہ داری ہی نہیں بنتی بلکہ یہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔جب تک ہم سب مل کر اس ذمہ داری کو نہیں نبھائیں گے کامیابی کا حصول ناممکن ہے۔ آزادخطہ کو تعمیر وترقی سے آراستہ کرنا اور اسے سرسبز و شاداب رکھنا بھی ہمارا اولین فرض ہے۔ بلین ٹری منصوبہ میں آزادکشمیر کو شامل کرنے پر وزیراعظم پاکستان اور حکومت پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ہم نے بھی اپنے بجٹ سے شجر کاری مہم کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔ محکمہ جنگلات کے لیے اس منصوبہ کی کامیابی بہت بڑا چیلنج ہے۔ جنگلات کے اصل مالک عوام ہیں۔محکمہ جنگلات اور عوام کے درمیان ایک تعلق ہونا چاہیے تاکہ جنگلا ت کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ جنگلات ہمار ا زیور ہیں اور یہ ہمار ا حسن اور لباس ہیں۔ان خیا لات کا اظہار وزیرا عظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے محکمہ جنگلات آزادکشمیر کے زیر اہتمام Plant for Pakistan Day کے موقع پر قومی شجر کاری مہم موسم بہار 2020کے حوالہ سے منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے آزادکشمیر کے وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان، وزیر ترقی نسواں محترمہ نورین عارف، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی، ضلعی صدر مسلم لیگ ن ڈاکٹر راجہ محمد عارف خان، سیکرٹری جنگلات سید ظہور الحسن گیلانی،ناظم اعلیٰ جنگلات سردار محمد نصیر خان، ناظم جنگلات مجتبیٰ مغل، ریٹائرڈ ناظم جنگلات خواجہ نذیر احمد، سینئر صحافی آصف رضا میر، راجہ محمد ممتاز خان، مہتمم جنگلات امتیاز احمد اعوان، مسرور احمد خان، راجہ طاہر مجید اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔جبکہ اس موقع پر وزیر اوقاف راجہ عبدالقیوم خان،سیکرٹریز صاحبان حکومت، سربراہان محکمہ جات،خواتین،طلباء وطالبات اور عوام کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ شجر کاری مہم میں پاک آرمی، عوام الناس، وکلاء،سول سوسائٹی، صحافی حضرات، این جی اوزاور دیگر سرکاری محکمہ جات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیاد ہ شجر کاری ہو۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی کہ شجر کاری کے دوران ایندھن کے استعمال کے لیے بھی درخت لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 88فیصد آبادی دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے اور سارا دباؤ جنگلات پر ہوتا ہے اس لیے لوکل آبادی کی ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایسے درخت لگائے جائیں جو جلدی تیار ہوں تاکہ لوگ انہیں ایندھن کے لیے استعمال کریں اور جنگلا ت کے کٹاؤ کو بھی روکا جا سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اپنے محدود وسائل کے مطابق جنگلات کے انتظام و انصرام کے لیے کوشاں ہے اور جنگلات کی ترقی و ترویج کو اولیت دے رہی ہے اور ہر سال محکمہ جنگلات کو دستیاب وسائل سے وافر فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم جنگلات کے تحفظ اور افزائش کے لیے سرگرم عمل ہوں جس کے لیے قومی سطح پر فکر و عمل کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عہد کریں کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کی بقاء اور درخشاں مستقبل کے لیے ریاست کے جنگلات کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شجر کاری کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور اپنے مستقبل کو محفو ظ سے محفوظ تر بنانے کی کوشش کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آزادکشمیر کے وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان نے کہا کہ تمام دنیا کے مفکر اور سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ درخت جسم و روح کے رشتہ کو قائم رکھنے کے لیے انسانی و حیوانی مخلوق کو آکسیجن مہیا کر نے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب تک کرہ ارض پر ماحولیاتی توازن برقرار رہتا ہے انسان، جانوروں اور دیگرمخلوق کے لیے ماحول سازگار رہے گا۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ بلا شبہ ریاست کے جنگلات ہماری قومی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر جغرافیائی و موسمی لحاظ سے شجرکاری و شجر رپروری کے لیے ایک مثالی خطہ ہے جہاں تقریبا سار ا سال وقفہ وقفہ سے بارشیں ہوتی ہیں جو درختوں کی نشو نما کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔ وزیر جنگلا ت نے کہا کہ اگر ہم ایسے سازگار موسمی حالات ہونے کے باوجود اپنے ملک کو سرسبز و شاداب نہ بنا سکیں تو یہ ہماری بدنصیبی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ درخت بنی نو انسا ن کے لی انتہائی ضروری ہیں اسے ہم نے قومی اور مذہبی فریضہ سمجھ کر ادا کرنا ہے۔ بلین ٹری سونامی منصوبہ میں 20ارب روپے ملیں گے اس منصوبہ کو کامیاب کرنے کے لیے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وزیر جنگلات نے کہا کہ شجر کاری کے بعد درختوں کی مانیٹرنگ بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات ہماری آنے والی نسلوں کا اثاثہ ہیں اس لیے ہم سب نے مل کر ان کی حفاظت کرنی ہے۔ وزیر صنعت و ترقی نسواں محترمہ نورین عارف نے کہا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے لوکل کمیونٹی کے تعاون کے بغیر ہم کبھی بھی درختوں کی بہتر حفاظت نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ جنگلات کا کوئی بھی منصوبہ لوکل کمیونٹی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ وزیر حکومت نے کہا کہ جنگلات ہمارے بچوں کا اثاثہ ہیں۔ ہم سب نے مل کر ان کی حفاظت کرنی ہے۔ نورین عارف نے کہا درخت ہماری زندگی ہیں۔ میڈیا اور خواتین بھی شجر کاری مہم میں حصہ لیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر مصطفی بشیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا قومی فریضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے قدرتی حسن کو بحال رکھنے کے لیے لوکل کمیونٹی،این جی اوز اور سرکاری اداروں کے تعاون سے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے تاکہ یہ خطہ خوبصور ت نظر آئے۔ا نہوں نے کہا کہ شجر کاری کے علاوہ درختوں کی کٹائی کو روکنے کے لیے ایسا مانیٹرنگ سسٹم بنایا جائے تاکہ درختوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنگلا ت سید ظہور الحسن گیلانی نے کہا کہ اس وقت دنیا کو گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آزادکشمیر میں چار سالہ شجرکاری پروگرام ٹن بلین ٹری سونامی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس قومی شجر کاری پروگرام کے تحت آزادکشمیر کے لیے بیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ آئندہ چار سالوں کے دوران آزادکشمیر کے سرکاری اور پرائیویٹ رقبہ جات پر 55کروڑ 50لاکھ پودا جات لگائے جائیں گے جس سے آزادکشمیر کے ہزاروں لوگوں کو مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت تیاری نرسریز کے عمل میں بیس فیصد خواتین اور نوجوانوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بڑے شجر کاری پروگرام کے تحت مقامی لوگوں کو چار سالوں کے دوران 45 لاکھ پھل دار پودے بھی فراہم کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئیے محکمہ جنگلات کے شانہ بشانہ موسم بہار میں اپنے حصہ کا کم از کم ایک درخت لگا کر اپنا قومی و مذہبی فریضہ ادا کریں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے اس موقع پر محکمہ جنگلات کے آفیسران کو شیلڈز بھی دیں۔

متعلقہ خبریں