مظفرآباد (سیاست نیوز) رینجرز پولیس میں جعلی تقرریوں کا انکشاف، تقرریوں کا کوئی ثبوت اور ریکارڈ رینجرز پولیس میں موجود نہیں جبکہ 10ملازمین کی اے جی آفس سے تنخواہیں وصول ہو رہی ہیں، تحقیقات کے دوران سنسنی خیز انکشاف۔ ایس پی رینجرز رشید مغل نے ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل جعلی تقرریوں کے حوالے سے کی گئی انکوائری رپورٹ سی پی او کو ارسال کر دی، جعلی تقرریوں کے مرتکب سب انسپکٹر احمد حسین شاہ، اسسٹنٹ سب انسپکٹر زمحمد فاروق اور محمد نجیب کے خلاف تادیبی کارروائی کی تحریک کر دی۔ ایس پی رینجرز عبدالرشید مغل کی جانب سے مرتب کی گئی انکوائری رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی ایس پی رینجرز تعیناتی کے بعد نوٹس میں آیا کہ شعبہ رینجرز میں خلاف ضابطہ فالوران کی مختلف کیڈر میں بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں جس کے بعد معاملہ کی چھان بین کی گئی، تحقیقات سے عیاں ہوا کہ اے جی آفس سے جعلی طور پر بھرتی شدہ 10 فالوران کی تنخواہیں کلیم کی جا رہی ہیں جبکہ محکمہ کے دفاتر میں ان فالوران کی تقرریوں / تعیناتیوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، جعلی طور پر تعینات فالوران میں وقاص بشیر ولدمحمد بشیر، محمد عاصم خان ولد شمیم خان، فیضان رشید ولد عبدالرشید، محمد صادق ولد نور دین، راجہ عادل ولد محمد یعقوب، سید خالد حسین شاہ ولد سید فقیر حسین شاہ، ساجد حسین اعوان ولد محمد حسین اعوان، عبدالقدیر ولد محمد بشیر، جاوید غلام خان ولد غلام خان اور بلاول اعوان ولد عاشق حسین کے نام شامل تھے، متعلقہ برانچز سے فالوران کی بھرتی کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہ ہوا اور نہ ہی فالوران متعلقہ شعبہ میں عملاً حاضر / موجود تھے اور نہ ہی کسی مقام پر ان کی تعیناتی ہونا پائی گئی صرف گھر بیٹھے خزانہ سرکار سے مفت تنخواہ حاصل کر رہے تھے انہیں تاریخ بھرتی مورخہ 31-10-2021 سے ملازمت سے برخاست کیا گیا اور ریکوری کے لیے نوٹس جاری کیے گئے جس پر متذکرہ فالوران نے سروس ٹربیونل میں اپیل دائر کی اور ریکوری نہ کرنے کی نسبت سپریم کورٹ میں بھی اپیل دائر کی، سپریم کورٹ نے تافیصلہ سروس ٹربیونل ریکوری نہ کرنے کا حکم دیا۔ انکوائری رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سروس ٹربیونل میں دائرہ اپیل کے ہمراہ تقرریوں کے جعلی حکم نامے شامل کیے گئے ہیں جن کا دفتر پولیس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں لہٰذا ان ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ان سے تنخواہوں کی مد میں وصول کردہ رقم ریکور کرتے ہوئے داخل خزانہ سرکار کی جائے اور ان کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

متعلقہ خبریں