کشمیر میں کب تک پابندیاں رکھنا چاہتے ہیں،بھارتی سپریم کورٹ کا استفسار

نئی دہلی (سیاست نیوز(مقبوضہ جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد اگست کے پہلے ہفتے میں نافذ کی جانے والی کشمیر میں تمام پابندیوں کو ختم کرنے کے لئے عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ مقبوضہ ریاست 5 اگست کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے ایک دن قبل سے مواصلاتی لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔ تمام موبائل، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسزختم کردی گئیں تھیں۔ اسکولوں، کالجوں اور دفاتر کو بند کردیا گیا تھا اور سڑکیں بند کردی گئی تھی، جسٹس این وی رمنا کی سربراہی میں تین ججوں کے بنچ نے درخواستوں پر سماعت کے دوران حکومت سے پوچھاکہ آپ کتنے دن پابندی چاہتے ہیں اب تو 2 مہینے ہوچکے ہیں۔ اس کے جواب میں سالیسیٹر جنرل ٹشر مہتا نے عدالت کو بتایا کہ وادی میں پابندیوں کا وقتا فوقتا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “آج 99 فیصد علاقوں میں کوئی پابندی نہیں سوائے ایک دو جگہ کے جہاں پر امن و امان کا مسئلہ ہے۔عدالت نے کیس5 نومبر کے لئے موخر کردیا۔جج جسٹس سبھاش ریڈی نے کہاکہ: “آپ قومی مفاد میں پابندیاں عائد کرسکتے ہیں لیکن پھر بھی اس پر نظرثانی کی جانی چاہئے۔” جس پر مہتا نے کہا کہ ایسا روزانہ کی بنیاد پر کیا جارہاہے۔سپریم کورٹ کشمیر ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی درخواستوں پر سماعت کررہی ہے جس میں انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں عائد پابندیوں کو چیلنج کیا تھا۔

متعلقہ خبریں