مقبوضہ کشمیر سے میڈیا لاک ڈاؤن،کالے قوانین ختم کروائے جائیں،وزیراعظم آزادکشمیر

برسلز (سیاست نیوز)وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام تین ماہ سے محصور ہیں وہ اپنے حق خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ موجودہ تحریک آزادی میں 5لاکھ افراد جانوں کی قربانیاں دے چکے، عالمی برادری بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور سیز فائر لائن پر گولہ باری بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ وہ گزشتہ روز ممبر یورپی پارلیمنٹ شفق محمود، علی رضا سید چیئرمین کشمیر ای یو کونسل، انگانا پی چتر جی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے میڈیا کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام تین ماہ سے محصور ہیں۔ ہندوستان کی تمام کارروائیاں انسانیت کے خلاف جرائم میں جن پر ہندوستان کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کا باہمی مسئلہ نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جموں وکشمیر کے اندر آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے مودی آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی طرف سے آرٹیکل 370اور 35اے کی منسوخی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1957کی قرار داد نمبر 122کی اور عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک قابض ہے اور اس کو ریاست کا سٹیٹس تبدیل کرنے کا اختیار نہیں اور نہ ہی اپنی آبادی یہاں منتقل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کو ریاستی یونٹس کے اسٹیٹس کو بڑھانا چاہیے نہ کہ ہندوستان کی طرح کم کرنا جبکہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر ی عوام کی خواہشات کا احترام کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کی دو سو سال پرانی تاریخ ہے۔ ریاست کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر،جموں وکشمیر اور لداخ کو داخلی خود مختاری اور قانون سازی کے اختیار دیے بغیر تقسیم کر دیا ہے اور ان علاقوں پر ہندوستان براہ راست حکمرانی کریگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3ماہ سے مقبوضہ کشمیر دنیا سے کٹا ہوا ہے وہاں پر مکمل لاک ڈاؤن ہے میڈیا پابند ہے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون بھی بند ہیں اور تمام کمیونیکیشن سسٹم بند ہے۔ خوراک اور ادویات کی کمی ہے اور لوگو ں کو ہسپتالوں تک رسائی نہیں۔ کشمیر ایک پنجرہ میں تبدیل ہو چکا۔ ہندوستان حتی کہ اپنے اراکین پارلیمنٹ کو بھی مقبوضہ کشمیر تک رسائی نہیں دے رہا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ 9سے28سال کے14ہزار نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا جن میں بہت سے افراد کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے۔5اگست سے خواتین کی عصمت دریوں اور ان پر تشدد کے واقعات بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کی سیاسی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے حتیٰ کہ ہندوستان کے کٹھ پتلی سابق وزراء اعلیٰ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ہندوستان نے من پسند دو سرکاری ملازمین کو یہاں پر لیفٹیننٹ گورنرز لگایا گیا ہے اور انہیں تمام آئینی و انتظامی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے مزید کہا کہ ہندوستان سیز فائر لائن پر نہتے اور معصوم شہریوں کو اپنی گولہ باری اور فائرنگ کا نشانہ بناتا ہے کہ تاکہ عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹا ئی جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی فوج کلسٹر بم کا بھی استعمال کررہی ہے۔اس سال پر سیز فائر لائن پر 53سویلین شہید اور 246زخمی ہوئے۔ بھارتی فوج سکولوں، ہسپتالوں، مساجد اور خواتین کو نشانہ بناتی ہے۔ ہندوستان کی اس جارحیت کے باعث شہری دیگر علاقوں کی طرف منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستان کی گولہ باری اور فائرنگ سے سیاحت اور لائیو سٹاک کو بری طرح نقصان پہنچا ہے جس کیلئے آزادکشمیر کی حکومت پر مالی دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کا سودا کبھی نہیں کرینگے۔ انہوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر میں 5لاکھ افراد شہید ہو چکے۔ 15لاکھ نے ہجر ت کی۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ جبر اور تشدد کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند کرنے، نافذ کالے قوانین منسوخ اور سیز فائر لائن پر گولہ باری اور فائرنگ روکنے کیلئے دباؤ ڈالے۔

متعلقہ خبریں