سیکولرہندوستان کاچہرہ بے نقاب،بابری مسجد کیس،بھارتی سپریم کورٹ کا انتہاپسند ہندؤں کے حق میں فیصلہ

نئی دلی (سیاست نیوز)بھارتی سپریم کورٹ نے ایک مرتبہ پھر اپنے فرقہ پرست اور متعصبانہ ہندو چہرے کامظاہرہ کرتے ہوئے ایودھیامیں موجود بابری مسجد کی زمین مندر کی تعمیر کیلئے ہندوؤں کی دیدی ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں قائم ایک5رکنی بنچ نے رام مندر بابری مسجد مقدمے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کی تمام 2.77ایکڑ زمین حکومت کے زیر انتظام ایک ٹرسٹ کو دی جائے گی تاکہ وہ اس پر مندر بنا سکے تاہم بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کیلئے ایودھیا شہر میں ہی متبادل زمین دی جانی چاہیے۔ یاد رہے جو زمین ہندوؤں کی دی گئی ہے اس پر پہلے بابری مسجد موجود تھی جسے ہندوانتہا پسندوں نے دسمبر 1992میں منہدم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارتی محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق بابری مسجد والی زمین کے نیچے ایک ڈھانچہ برآمد ہوا تھا آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا کرانصاف کا خون کیا۔بھارتی عدالت کے فیصلے سے مودی سرکارکا انتہاء پسند چہرہ بینقاب ہوا جس نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کی اعلی عدالت بھی ہندو جنونیوں کے آگے بے بس ہے۔کرتارپور راہداری کے دن بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور سہولیات ہیں جبکہ بھارت میں اقلیتوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی کشمیری حریت رہنماء افضل گور کے فیصلے میں انصاف کا خون کر چکی ہے۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کیس کا فیصلہ آنے کے بعد اپنے ردعمل میں کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب سے بھارت میں مودی برسر اقتدار آیا ہے بھارت ہندو انتہا پسندوں کے چنگل میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا تنازعہ انتہائی اہم مقدمہ تھا جس پر پوری دنیا کی نظریں تھیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بھارت کی اعلی عدالت بھی ہندوں جنونیوں کے آگے لیٹ گئی اور انصاف کا خون کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے فیصلے نے ہندوستان میں رہنے والی اقلیتوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اب بھارت میں فیصلے میرٹ کے بجائے انتہا پسند جتھوں کی ایما پر کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہندووانہ انتہا پسندی بالاخر ہندوستان کو لے ڈوبے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے مسلمانوں کو بیحد مایوس کیا تھا اگر اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر آتا تو یہ مسلمانوں کے حق میں ہوتا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت عالمی برادری کی آنکھوں میں سیکولر ازم کا جو دھول جھونکتا تھا سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو بھارتی اعلی عدالت پہلے پی مایوس کر چکی ہے جب اسنے حریت رہنماء افضل گورو کو ایک جعلی اور خودساختہ مقدمے میں سزائے موت سنائی۔وزیراعظم نے کہا کہ عین کرتارپور راہداری کے افتتاح کے دن بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سنانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیاء میں حالات کو نارمل کرنے اور امن کو فروغ دینے میں کوئی دلچسبی نہیں رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے اقلیتوں پر زندگی تنگ کر رکھی ہے اور بھارت کی سب سے بڑی عدالت بھی ہندوانتہاء پسندوں کے سامنے بے بس ہے۔

متعلقہ خبریں