انسانی حقوق کمیشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے،صدر ریاست

اسلام آباد (سیاست نیوز) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ او آئی سی کے مستقل انسانی حقوق کمیشن نے اپنے حالیہ سولہویں اجلاس منعقدہ جدہ سعودی عرب کے اختتامی سیشن میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر مایوسی کا اظہار کیا اور اس کی مذمت کی ہے۔ کمیشن نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا اور اس اجلاس میں کمیشن کے سارے ممبر ممالک اور مبصر ریاستوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ سردار مسعود خان صدر آزاد جموں وکشمیر نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی اور شرکاء کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہ کیا اور بین الاقوامی برادری کی توجہ کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانی بحران کی طرف دلائی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان کی حالیہ ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان،کشمیر میں مذہبی انتہا ء پسندی کے ذریعے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے امتیازی سلوک، غیر ملکیوں سے نفرت اورنئی فسطائیت پر مبنی پالیسی پر گامزن ہے۔ جن کے نظریے کے مطابق مسلمان ایک ناپاک اور نجس لوگ ہیں۔ صدر نے او آئی سی اور IPHRCکی طرف سے کشمیری مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر ان کے دو ٹوک اصولی موقف اور بامقصد حمایت کے اعلان کو خوش آمدید کہا۔ صدر نے کمیشن کے ممبران کو آزادکشمیر کا دورہ کرنے اور اپنی سابقہ رپورٹ 2017ء کو اپ ڈیٹ کرنے کی درخواست کی۔ کمیشن کو یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ ہندوستانی حکومت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو دبانے کے لئے کشمیریوں کے سیاسی، معاشی حقوق اور رسل و رسائل پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو 115واں دن ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ صدر نے کہا کہ 5اگست 2019سے بھارت نے لاکھوں سکیورٹی اہلکاروں کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعینات کیا ہے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدل کہ رکھ دیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہاں گینگ ریپس، گھر گھر تلاشی اور نوجوانوں لڑکے، لڑکیوں کو بے لباس کرنے، سکولوں اور کاروبار کی بندش، انٹرنیٹ سہولتوں کا خاتمہ، سیاسی قائدین کی گرفتاریاں نظر بندیاں اور ان پرتشدد صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کے واقعات ہورہے ہیں اور ان سب کے ذمہ دار وہاں کے سکیورٹی اہلکار ہیں۔ صدر نے کہا کہ کمیشن نے یہ بھی نوٹ کیا اور اس کا بھرپور اظہار کیا کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کا مقبوضہ کشمیر میں نفاذ ہے اور ان کالے قوانین کے تحت ہندوستانی افواج کو وہاں جرائم کرنے کی کھلی چھٹی ہے۔ اور وہ بلا خوف ادھر نہتے کشمیریوں پر بے دردی کے تحت مظالم ڈھا رہے ہیں۔ کمیشن نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ ہندوستان نے آرٹیکل 35-Aاور 370کو ختم کر کے ایک غیر قانونی اقدام کیا ہے اور اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر سے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا ہے نیز یہ کہ یہ انسانی حقوق کے معاہدوں، کنونشنز اور فورتھ جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 27اور 49اور ایڈیشنل پروٹوکول کی بھی خلاف ورزی ہے۔ کمیشن نے سختی سے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کے ہاتھوں پیلٹ گن کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ جس کے استعمال سے مقبوضہ کشمیرمیں نوجوانوں اور بچوں کو بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے نیز وہاں پر ماورائے عدالت ہلاکتوں اور مذہبی اور سیاسی قیادت کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ پرامن مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ایک منظم طریقے سے کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ جموں وکشمیر میں لوگوں پر بنیادی آزادیوں پر قد غن کسی صورت قابل قبول نہیں کمیشن نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی سفارشات پر بھی عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ او آئی سی کے ممبر ممالک نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ اور او آئی سی کے ایجنڈے پر موجود ایک طویل ترین حل طلب مسئلہ ہے جس کا منطقی حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دنیا کا ضمیر ابھی کشمیر پر جاگا نہیں ہے۔ کمیشن نے ہندوستانی حکومت کی طرف سے کمیشن کو مقبوضہ کشمیر میں جانے اور حقائق جاننے کی اجازت نہ دینے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ IPHRC، OIC، اقوا م متحدہ کے UN OHCHRکی اپیلوں پر ہندوستان کان دھرے۔ کمیشن نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی کہ آزادکشمیر میں جاکر وہاں کے زمینی حقائق جان کر OICکمیشن اپنی سابقہ رپورٹ کو تازہ شکل دے۔

متعلقہ خبریں