طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان،تعلیمی ادارے لیڈرشپ کی نرسری ہیں،وزیراعظم آزادکشمیر

اسلام آباد (سیاست نیوز) آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آزادکشمیر بھر میں طلباء یونین کے انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری تاریخی بیان میں راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ پاکستان میں جب تک نظریاتی سیاست فروغ نہیں پائے گی ہمارے ملک کی سیاست میں ترقی نہیں آ سکتی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی بنیاد نظریاتی سیاست ہے کیونکہ اس کے بغیر سوچ و فکر میں بالیدگی نہیں آ سکتی۔انہوں نے کہا نظریاتی سیاست کے بغیر ہم اپنا راستہ متعین نہیں کر سکتے وہ خواہ اقتصادی ہو سیاسی ہو یا سماجی۔انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں پالیسی کا تعین عوام کی حقیقی لیڈر شپ کرتی ہے لیکن ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ پالیسی کا تعین عوام کی حقیقی لیڈرشپ کی بجائے کہیں اور سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ہمارے پاس بہترین ادارے ہیں ذہین لوگ ہیں ان سے مشاورت کی جا سکتی ہے اور کرنی بھی چاہیے وہ ہمارے بہترین لوگ ہیں مگر حتمی فیصلہ سازی عوام کی حقیقی لیڈر شپ کو کرنی چاہیے جس کیلئے پارلیمینٹ ایک بہترین فورم ہے۔انہوں نے کہا یہ بنیادی بات ہے ہمیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے یہ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام نظریات کے حامل افراد اور شخصیات کو ایک صحت مند نظریاتی سیاست کے احیاء کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان کا قیام نظریاتی سیاست کی بنیاد پر ہوا تھا تحریک پاکستان کے قائدین اور بعد کی شخصیات نے بڑی قربانیاں دیں،قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں،تکلیفیں کاٹیں اس میں ہر طرح کے نظریات کے لوگ شامل ہیں وقت آ گیا ہے کہ ان کی قربانیوں کا پاس کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نیچرل لیڈرشپ تعلیمی اداروں سے نکلتی ہے۔انہوں نے کہا یہ جو بلدیاتی اداروں کے حامل افراد کے پاس قومی لیڈر شپ چلی گئی ہے اس سے ملک کے اندر لیڈرشپ نہیں بن سکتی۔انہوں نے کہا آج ملک کو حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات کے حامل لوگوں کی ضرورت ہے ملک کو لیاقت علی خان،حسین شہید سہروردی،محترمہ فاطمہ جناح،سردار عبدالرب نشتر،خواجہ ناظم الدین جیسے قائدین کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا یہ جو بلدیاتی الیکشن کے بعد پھر صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں جو لیڈر آتے ہیں ان کی سوچ و فکر اور طرح کی ہوتی ہے اس وقت قوم کو جو لیڈر شپ چاہیے وہ حضرت علامہ اقبال کے نظریات کی حامل ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا ہمیں ایسی لیڈرشپ درکار ہے جس کی گھٹی میں مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات ہوں۔انہوں نے کہا مجھے خوشی ہے میں کوئی بلدیاتی الیکشن نہیں لڑا میں ایک سیاسی کارکن ہوں میں کوئی بلدیاتی کارکن نہیں ہوں۔انہوں نے کہا میں نے ٹیلی ویڑن پر دیکھا میرے بیٹے بیٹیاں سٹوڈنٹس یونین کے احیاء اور انتخابات کیلئے اپنی آواز بلند کر رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ سٹوڈنٹس یونین کو بحال کیا جائے تو مجھے اس بات پر فخر ہوا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر میں طلباء یونینز پہلے سے بحال کر رکھی ہیں ہم نے ٓاس سلسلے میں پہل کر دی تھی اور آج طلباء یونینز کے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے مجھے مزید خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نے نظریاتی سیاست کی طرف ایک اور اہم قدم اٹھا دیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے تمام یونیورسٹیوں،کالجز اور پروفیشنل کالجز کو حکم دے دیا ہے کہ وہ ایک ضابطہ اخلاق بنائیں۔انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق میں کوئی ماورائی چیزیں نہیں ہونگی بلکہ میری خواہش اور کوشش ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو اپنے نظریات پر قائم رہنے اور اس کیلئے قربانیاں دینے کا جذبہ پیدا کرنے کے قابل بنا سکیں۔انہوں نے کہا ہمیں حضرت اقبال کے فرمودات کے مطابق قوم کی فکری بالیدگی ایک غیرت مند قوم کے طور پر کرنا ہو گی ہمیں انہیں سکھانا ہو گا کہ بھوکے مر جاو مگر نظریے،وقار،حمیت اور غیرت کا سمجھوتہ نہ کرو۔وزیراعظم نے کہا حضرت اقبال نے جو یہ فرمایا تھا غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا تو اسکے مطابق ہمیں اپنے نوجوانوں کی سیاسی تربیت کرنا ہو گی کیونکہ نوجوان ہی اس ملک کا اصل اور روشن مستقبل ہیں۔انہوں نے کہا یہ طلباء ہی تھے جن کی تحریک نے مضبوط آمریت کی چولیں ہلا دی تھیں۔انہوں نے راولپنڈی کے طلباء کو یاد کرتے ہوے کہا کہ ایک چھوٹے سے واقعہ نے پورے ملک میں ایسی تحریک کو جنم دیا تھا جس نے مضبوط آمریت کو ہلا کر پاکستان کی سیاست کو تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں