کشمیر میں اسلام کا تشخص خطرہ میں، او آئی سی اپنا کردار ادا کرے، سردار عتیق

مدینہ منورہ(سیاست نیوز) آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد وسابق وزیراعظم سردار عتیق احمدخان نے کہا کہ امت مسلمہ کے مسائل کا حل اتحاد واتفاق میں ہے۔ مسلمانوں کے باہمی انتشار نے ان کے مسائل بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روضہ رسولﷺپر حاضری دینے کے بعد مسجد نبوی کے امام مفتی جمیل الرحمن کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سردار عتیق احمدخان نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین مسلمانوں کے دیرینہ اور سلگتے ہوئے مسائل ہیں دونوں جگہوں پر مسلمان شدید مشکلات کا شکار ہیں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ایسی صورتحال میں او آئی سی کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں انتہا پسندوں کا ابھار جنوبی ایشیاء کے لیے خطرات بڑھانے کے باعث بن رہا ہے۔نریندر مودی کی صورت میں ہٹلر واپس آگیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ عوام کو محاصرے میں رکھ کر ہندوستان دنیا کو اپنے سیکولرازم اور جمہوریت کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ قابض بھارتی فوج کشمیری عوام پر ظلم وستم ڈھا رہی ہے کشمیر کا اسلامی تشخص خطرے میں ہے۔ ان حالات کا مقابلہ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہندوستان کا ہاتھ روکنا اب ضروری ہوگیا ہے۔طاقت کے نشے میں مودی کوئی بھی حماقت کر سکتا ہے۔ جس سے جنوبی ایشیاء میں ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔دنیا کو انسانیت کی بقاء کے لیے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کرنا ہوگا۔ سردار عتیق احمدخان نے کہا کہ ہندوستان آزادکشمیر کو بھی للچاتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے مگر آزادکشمیر کو بھارتی فوج کا قبرستان بنا دیں گے۔

متعلقہ خبریں