برطانوی پارلیمنٹ میں یکجہتی کانفرنس‘ عالمی برادری سے کشمیریوں کی مدد کا مطالبہ

لندن (سیاست نیوز) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر اب ایک بین الاقوامی دن اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد بین الاقوامی تحریک کا روپ دھار چکی ہے۔ بھارت کے مکرو فریب اور ظلم کا ہر ہتھکنڈا اب ناکام ہو گا اور اسے کشمیریوں کی آزادی کے مطالبے کے آگے اپنا سر جھکانا ہو گا۔ یہ بات انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ خواتین اور نوجوانوں کی ایک کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ کانفرنس کا اہتمام تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل نے کیا تھا۔تقریب سے برطانوی پارلیمنٹ کے دارالعوام کی ڈپٹی سپیکر ڈیم روزی، رکن پارلیمنٹ اور برطانوی پارلیمنٹ میں کل جماعتی کشمیر پارلیمانی گروپ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہم، آل پارٹیز کشمیر پارلیمانی گروپ کے سیکرٹری لارڈ قربان حسین، شیڈو وزیر برائے جنوبی ایشیاء جیمز ڈیلی، شیڈو وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء، سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ناردرن آئرلینڈ ٹونی لائیڈ، شیڈو سیکرٹری آف سٹیٹ برائے میڈیا اینڈ کلچر، شیڈوزیر انصاف یاسمین قریشی، ممبر پارلیمنٹ للین گرین ووڈ، ممبر پارلیمنٹ محمد یاسین، ممبر پارلیمنٹ راچیل ہاپکن، ممبرپارلیمنٹ کلاڈیا ویب، ذیشان عارف، سمیرا فرخ، نوجوان رہنما عظمیٰ رسول کے علاوہ بڑی تعداد میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آج نہ صرف پاکستان اور آزادکشمیر بلکہ دنیا کے ہر ملک اور ہر حصہ میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے اور یہ دن صرف اہل پاکستان اور آزادکشمیر نہیں بلکہ آزادی اور حریت سے محبت کرنے والے تمام لوگ منا رہے ہیں۔ بھارت کو ایک غاصب ملک قرار دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آج کشمیر کے مقبوضہ حصے کے ہر کوچہ و بازار میں آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند ہور ہے ہیں جو کشمیریوں کی امنگوں اور ان کے عزم کو ظاہر کر رہے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں فاروق عبد اللہ اور محبونہ مفتی جیسے لوگوں کو گرفتار کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ وعدوں اور وفاداریوں کو اپنے مخصوص مفادات کی نظر سے دیکھتا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اب تک جو اقدامات اٹھائے ہیں انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے پانچ اگست کے بعد نو لاکھ فوج کی مدد سے کشمیر پر دوبارہ قبضہ کیا، اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور اسے اپنی کالونی میں بدل دیا۔ یہ سب کچھ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف اور ان سے پوچھے بغیر کیا گیا جو نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ تمام بین الاقوامی معاہدوں اور ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہے جسے کشمیریوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو گرفتا ر کر کے نظر بندی کیمپوں میں بند کیا جا رہا ہے جبکہ خواتین کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اور ان کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے متعلق اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ سمیت دنیا کی اہم پارلیمانز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا نے کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کی جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ جبکہ دنیا کے بعض بااثر اور طاقتور ممالک کی حکومتیں ابھی تک خاموش ہیں جن کی خاموشی توڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے نوجوان خواتین اور حضرات پر زور دیا کہ وہ ایک نئے عزم، جوش اور ولولے سے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کے حق میں آواز بلند کریں اور ان پر ہونے والے مظالم کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ صدر آزادکشمیر نے برطانیہ کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غیر جانبداری کی پالیسی ترک کر کے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کے حوالے سے پاکستان کی مدد کرے کیونکہ یہ مدد پاکستان کی نہیں بلکہ حق و انصاف کے اصولوں کو سربلند کرنے کی کوشش ہے جوبرطانیہ سمیت ساری مہذہب دنیا کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کشمیر کے حوالے سے اپنا ایک مستقل نمائندہ خصوصی مقرر کر کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بھیجے۔ ہم آزادکشمیر میں اقوام متحدہ کے ایسے کسی نمائندہ خصوصی کو خوش آمدید کہیں گے کیونکہ ہمارے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ وہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کا دوطرفہ مسئلہ قرار دے کر باہمی مذاکرات کا مشورہ دیتے ہیں

متعلقہ خبریں