مقبوضہ کشمیر میں کورونا کے 317 کیسز،چالیس ہزار سے زائد مزدور پھنس گئے

سرینگر(سیاست نیوز)مقبوضہ کشمیر میں بدھ کے روز لاک ڈاون 28 ویں دن میں داخل ہوگیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ کشمیر میں حکام نے کورونا وائرس کے پھیلاو پر قابو پانے کے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر سختی سے عمل پیرا ہونے کو یقینی بنانے کے لئے کنٹینمنٹ زونز کو سیل کردیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بدھ کے روز بھی کشمیر میں لوگوں کی نقل و حرکت اور لوگوں پر پابندی عائد رہی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے وادی میں بیشتر مقامات پر اہم سڑکوں کو سیل کردیا۔متعدد سیاسی رہنماوں نے بدھ کے روز یہ الزام لگایا کہ ان کی رہائی کے بعد حکام نے انہیں اس قرنطینہ مراکز میں رکھا ہے جہاں کوئی بنیادی طبی اور لاجسٹک سہولیات نہیں ہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جودھ پور جیل سے رہائی پانے والے سیاسی رہنماوں نے الزام لگایا ہے کہ انھیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں کوئی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ میر حفیظ اللہ، پیر مجید اور متعدد دیگر سیاسی رہنماوں نے ان کی کشمیر واپسی کو آسان بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام رسمی ضابطے مکمل کرلیے ہیں لیکن پھر بھی انہیں ایک اور قیدخانے سے بند جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ممبر پارلیمنٹ فیاض احمد میر نے بھی ان کے انخلا کا جلد از جلد مطالبہ کیا ہے۔بدھ کو مقبوضہ جموں وکشمیر سے 22 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔سرینگر/ممبئی (سیاست نیوز)مقبوضہ جموں و کشمیر کے 40000 مزدور خوراک اور پیسوں کے بغیر بھارت کی مختلف ریاستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ڈائریکٹر، لیبر کمیشن عبد الرشید وار نے بتایا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے 30سے 40ہزار مزدور موجود ہیں۔ ہماچل پردیش کے ایک ہوٹل میں کام کرنے والے ضلع کپواڑہ کے اعجاز احمد وانی نے بتایا کہ ضلع کپواڑہ کے لگ بھگ 30 افراد یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔میں نے پچھلے چار دن سے کھانا نہیں کھایا۔ میرے پاس کھانا خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ دو ہفتے قبل کچھ مقامی لوگوں نے ہمیں آٹا مہیا کیا اور وہ بھی ختم ہوگیا۔اننت ناگ کا ایک اور کشمیری مزدور شفیع حاجی پانچ دیگر ساتھیوں کے ساتھ مہاراشٹر میں پھنسا ہواہے۔ حاجی نے کہا، جو کچھ بھی ہم نے کمایا وہ کھانے اور کمرے کے کرایہ پر خرچ ہوگیا۔نشاط کے عاقب مشتاق نوئیڈا میں ٹریول کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے کشمیری جو ملک بھر میں مختلف کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں، نے بھی انخلا کے لئے حکام سے درخواست کی

متعلقہ خبریں