سلیکشن بورڈ زیرالتوا، 223جریدہ اسامیوں پر تقرریاں نہ ہونے سے نظام تعلیم مفلوج

باغ(سیاست نیوز )سلیکشن بورڈ کا مسلسل التوا محکمہ تعلیم سکولز آزاد کشمیر تباہی کا شکار مختلف گریڈز کی سینکڑوں آسامیاں خالی گریڈB.20 کی8، B.19 کی 65۔B18 کی65 اور صدر معلمین کی55 وسنیئر ماہرین مضامین کی 30سے زائد آسامیاں خالی ہونے کی وجہ سے سرکاڑی تعلیمی ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے سیکرٹری تعلیم سکولز،ایڈیشنل سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری کی نااہلی اور معاملات کو التوا میں رکھنے کی پالیسی نے سرکاری تعلیمی اداروں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے،محکمہ تعلیم سکولز کے اعلیٰ حکام نے غلط اعداد وشمار کے زریعے نئے وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی کو بھی ماموں بنانے کا شروع کردیا ہے،سابق وزیر تعلیم افتخار گیلانی کی ناکامی کا سبب بھی یہی لوگ بنے اور اب موجودہ حکومت کے لیے بھی مسائل کھڑے کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے سنیئر ماہرین مضامین کے ورکنگ پیپرز گزشتہ کئی دنوں سے سیکرٹری تعلیم کے آفس میں موجود ہیں اور ماہرین مضامین سلیکشن بورڈ کا انتظار کر رہے ہیں،لیکن محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام وزیر تعلیم کے سامنے سلیکشن بورڈ کے التوا کی وجہ ورکنگ پیپرز کی عدم دستیابی کو قراردے رہے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے،صدر معلمعین اور ماہرین مضامین گزشتہ دو برسوں سے سلیکشن بورڈ کے انعقاد کے لیے سراپا احتجاج ہیں اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کے آفس کے سامنے دھرنا بھی دے چکے ہیں لیکن سیکرٹری تعلیم اور ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور اب محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سلیکشن بورڈ کی التوا کی زمہ داری صدر معملین اور ماہرین پر عائد کر کے اپنی لاپرواہی اور غفلت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں عوامی حلقوں نے وزیر تعلیم دیوان چغتائی سے اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محکمہ سکولز مکمل تباہی سے بچ سکے۔

متعلقہ خبریں