واشنگٹن میں تنازعہ کشمیر سے متعلق سیمی نار،امریکی صدر کے نمائندہ کی شرکت

واشنگٹن (سیاست نیوز)کشمیر گلوبل کونسل نے وائس آف کشمیر میڈیا کے اشتراک سے تنازعہ جموں کشمیر کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا، کانفرنس میں سیاسی رہنماء، ماہرین، کاروباری شخصیات اور میڈٰیا نمائندگان نے شرکت کی۔ کانفرنس میں جموں کشمیر پر ایٹمی ممالک کے اثر ورسوخ اور عوام کیلئے مکمل آزادی کے حصول کے لائعہ عمل پر گفتگو کی گئی۔ امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے مذہبی آزادیوں کے بارے امریکہ کی طرف سے قائم انٹرنیشنل کمیشن کے نامزد نمائندے امریکی نثراد خضر خان نے کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جموں کشمیر میں آزادی کے حصول کیلئے جاری تحریک کی حمایت کرتے ہیں، ہم کشمیریوں کی خودمختاری کے حق اور اپنے خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کے فیصلے کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ خضر خان نے اس رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس میں جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا کہ پاکستان نے جموں کشمیر تنازعہ کے حل بارے پے در پے کئی غلطیاں کیں اور اب تک اس مسئلے کیلئے قومی پالیسی نہیں بنائی جا سکی جس پر عمل کرتے ہوئے اپنے مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستان نے 1947، اور 1962 میں اس تنازعے کے حل کے مواقع گنوائے، اسد درانی نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو ھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو یکطرفہ طور پر اپنے آئین کا حصہ بنانے کے اقدام پر پاکستان نے جو رد عمل دیا وہ انتہائی مایوس کن تھا۔ اسد درانی نے کہا کہ بھارت کشمیر پر جبری قبضے کے باوجودکشمیر پر کنٹرول کھو چکا ہے، کشمیری کبھی بھارت کو قبول نہیں کرتے۔ اسد درانی نے جے کے ایل ایف اور کشمیری باشندوں کو تحریک جاری رکھنے اور دنیا میں زنڈہ رکھنے پر مبارکباد دی۔ کشمیر گلوبل کونسل کے صدر فاروق صدیقی نے مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں، عدالتی قتل عام، خواتین کی عصمت دری اور کالے قوانین بارے شرکاء کو تفصیلات فراہم کیں۔ فاروق صدیقی نے کہا کہ جموں کشمیر پر قابض ممالک کبھی بھی کشمیری عوام کی نمائندگی کا حق نہیں رکھتے اور نہ ہی اس طریقے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اس طریقے سے کبھی بھی عوام کی خواہشات کے مطابق اس کا حل نہیں نکل سکتا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے جینڈرسائیڈ پراجیکٹ کے صدر بیورلی ہل نے کہا کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور جموں کشمیر میں اجری آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ کانفرنس میں ایک قرارداد اکثریتی رائے سے منظور کی گئی جس میں انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرنے کے مطالبے سمیت تینوں ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی فوج جموں کشمیر سے نکالیں کشمیری عوام کو اپنی مرضی سے اپنے متسقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔

متعلقہ خبریں