پی ٹی آئی حکومت آزادکشمیر کا آئینی ڈھانچہ متاثر، مسئلہ کشمیر ختم کرنا چاہتی ہے،فاروق حیدر

کیلیفورنیا (سیاست نیو ز)مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ظلم جبراورانتقام کی زنجیریں ٹوٹنے کا وقت ہے انشاء اللہ قائد مسلم لیگ ن نوازشریف واپس آئیں گے اورعمران خان کی نحوست سے پاکستان کو چھٹکارا ملے گا۔ مسلم لیگ ن پاکستان کے استحکام، ملک کی ترقی، خوشحالی کی ضامن ہے۔ میاں نوازشریف نے کہا تھا کہ وہ اپنا فیصلہ اللہ تعالی پرچھوڑتے ہیں آج ان کی سچائی اور بے گناہی ثابت ہو رہی ہے، عمران نیازی کی حکومت نے پاکستان کو معاشی و اقتصادی طور پر تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے، آزاد خطے کی حیثیت اور ریاست جموں وکشمیر کا تشخص تحلیل کر کے مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے کے منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے۔ وہ یہاں کیلیفورنیا کے شہر سیکرامینتو میں پاکستانی کیمیونٹی کے رہنما حاجی مقصود احمد،جاوید اختر، وقار خان اور امتیازاحمد کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گیے استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ ممبر اسمبلی، سابق وزیر حافظ احمد رضا قادری، سابق مشیرمرزا تنویر جرال، سابق پولیٹیکل کوارڈینیٹر عابد ملک، سردار نصیر جنت، عابد بیگ نے بھی تقریب میں شرکت کی۔راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ پاکستان میں دو کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا جو حال ہوا وہ یہاں آزاد کشمیر میں ہونے والا ہے، آزادکشمیر کے عوام کا مینڈیٹ چراکر پی ٹی آئی کے چند ورک چارج افراد کو اقتدار دلوانے کا مقصد تقسیم کشمیراورتیرویں ترمیم کے ذریعے حاصل کیے گئے مالیاتی و انتظامی اختیارات واپس لینا ہے، انہوں نے کہا کہ مودی نے 5 اگست کو مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، عمران خان گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کراورآزادکشمیر کے آئینی ڈھانچے کو بے اختیار کرکے مسلہ کشمیر کو ختم کرنا چاہتا ہے،جب تک ہم زندہ ہیں کسی کو یہ نہیں کرنے دینگے اور آزادکشمیر اسمبلی سے کسی کو اس طرح کے کسی کشمیر دشمن فارمولے پر اسٹیمپ نہیں لگانے دینگے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام اپنے حق رائے شماری کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں، اس حق کو پوری دنیا نے اقوام متحدہ کے فورم پر تسلیم کر رکھا ہے۔ یہ حق کشمیریوں کا ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ دنیا بھر میں آباد کشمیری تارکین وطن اس جدو جہد کے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ عالمی کو جنجھوڑنے کے لیے اپنے اندر اتحاد و یکجہتی کو قائم رکھتے یوئے اپنی آواز بلند کریں۔

متعلقہ خبریں