پابندیاں مستقل حل نہیں،تمام ممالک اومی کورون کیلئے تیار رہیں، عالمی ادارہ صحت

لند ن (سیاست نیوز)عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کو اومی کرون کے لیے تیار رہنا چاہیے۔برطانوی میڈیا کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر کا کہنا ہیکہ جغرافیائی طور پر اومی کرون کا پھیلاؤ اتنا وسیع ہے جتنا موجودہ صورتحال میں رپورٹ نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم کورونا کے پہلے ڈیلٹا ویرینٹ سے بھی سبق سیکھ چکے ہیں لہٰذا تمام ممالک کو نئے ویرینٹ اومی کرونا کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ایمرجنسی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ سفری پابندیاں صرف اور صرف وائرس کے دیگر ممالک میں پھیلنے کو تاخیر کا شکار کرسکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت بڑے پیمانے پر اومی کرون پر ریسرچ کررہا ہے لیکن اب تک ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی کہ جن ممالک میں یہ وائرس پھیلا ہے اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ریجنرل ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ماسک کا استعمال، سماجی فاصلہ، ہاتھوں کی صفائی، بڑے اجتماعات اور ویکسی نیشن اس صورتحال میں بہت اہم دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے سوئس انٹرنیشنل اسکول میں اومی کرون کے دو کیسز سامنے آنے کے بعد ہزاروں طلبہ اور اسکول اسٹاف کو قرنطینہ کردیا گیا۔ انگلینڈ میں اومی کرون کے 55 فیصد کیسز کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والوں میں سامنے آئے۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کو خدشہ ہے اومی کرون پر موجودہ ویکسین کا اثر نہیں ہوتا۔دوسری جانب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اومی کرون جنوبی افریقا میں کورونا کی ڈیلٹا قسم سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، ڈیلٹا کے مقابلے میں بیماری دوبارہ لاحق ہونیکا خدشہ بھی تین گنا زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ جغرافیائی طور پر اومی کرون کا پھیلاؤ اتنا وسیع ہے جتنا موجودہ صورتحال میں رپورٹ نہیں کیا جا رہا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کورونا کے پہلے ڈیلٹا ویرینٹ سے بھی سبق سیکھ چکے ہیں لہٰذا تمام ممالک کو نئے ویرینٹ اومی کورونا کے لیے تیار رہنا چاہیے

متعلقہ خبریں