کوٹلی (بیورو رپورٹ) صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں 31سال بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مرحلہ پرامن طور پر منعقد ہو چکا ہے اور اگرچہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بے چینی اور اضطراب پیدا کرتا ہے لیکن اس مرتبہ پورے آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات پرامن طور پر منعقد ہوئے اور جب میں نے صدر ریاست کے عہدے کا حلف اُٹھایا تھا تو میں نے وعدہ کیا تھا کہ آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ اختیارات نچلی سطح منتقل ہوں اور عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل ہوں۔ اب جبکہ بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور ہم نے ان بلدیاتی انتخابات میں تعصب اور برادری ازم کی سیاست کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا ہے اگرچہ پورے میرپور میں 95فیصد جاٹ ہیں لیکن راجہ نوید گوگا کو چیئرمین ضلع کونسل بنایا اور اسی طرح کوٹلی میں بھی گجر برادری سے چوہدری عبدالغفور جاوید کو چیئرمین ضلع کونسل بنایا جو کہ عوام کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر میں چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف الیکشن کمشنر آزادجموں وکشمیر کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس کا کریڈٹ حکومت آزادکشمیر، دیگر سیاسی جماعتوں اور انتظامیہ کو بھی جاتا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ بلدیاتی انتخابات کا یہ سلسلہ اب بلا تعطل جاری و ساری رہے۔ میں جہاں بیرون ملک دورے کر کے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اُجاگر کر رہا ہوں وہاں پر اب میں آزادکشمیر میں بھی معاملات کو بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کروں گا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے آج یہاں کوٹلی کے علاقے راج محل میں وزیر ہائیر ایجوکیشن ظفر ملک کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے عشائیے کے موقع پر ایک استقبالیہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر استقبالیہ جلسے سے وزیر مال چوہدری اخلاق، وزیر ہائیر ایجوکیشن ظفر ملک، چیئرمین ضلع کونسل چوہدری عبدالغفور جاوید، میئر کوٹلی چوہدری تاج، ڈپٹی میئر راجہ ریاست، چوہدری محبوب ایڈووکیٹ، اصغر قریشی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کا پرامن انعقاد ایک بڑی کامیابی ہے اور اس پر تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔میں نے جب صدر ریاست کے عہدے کا حلف اُٹھایا تھا تو میں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے اور آج یہ مرحلہ بااحسن و خوبی پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے بعد اختیارات نچلی سطح پر تک منتقل ہوں گے اور عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں