اقوام متحدہ(کے این این)پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ریاستوں کی طرف سے عالمی ادارے کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری اورکشمیر اور فلسطین کے لوگوں کوحق خودارادیت کی فراہمی جیسے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کرے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے موثر کثیرالجہتی کے بارے میں 15 رکنی سلامتی کونسل کے مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی توہین کی سب سے بڑی مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی طرف سے تجویز کردہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو بھارت نے سات دہائیوں سے طاقت اور دھوکہ دہی سے دبا رکھا ہے۔پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ ایک اور مثال مقبوضہ فلسطین کی صورتحال ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کا عزم اس وقت کھوکھلا ثابت ہوجاتا ہے جب اقوام متحدہ کے چارٹر اور گزشتہ 75 سال سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ان دو تنازعات کے بارے میں عالمی ادارے کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزیوں کے ازالے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ منیر اکرم نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل دونوں مسائل کی صورتحال کا سالانہ جائز رپورٹ تیار کریں جہاں عالمی ادارے کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے یا ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں