اسلام آباد (بیورورپورٹ) وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر چوہدری انوار الحق کی زیر صدارت سیکرٹریز حکومت کا سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تیسرے کوارٹر کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلا س میں جاریہ منصوبہ جات کی پراگرس کو زیربحث لایا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبہ جات بروقت مکمل کیے جائیں اور کام کی کوالٹی کو پیش نظر رکھا جائے۔ اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے مختص شدہ جملہ فنڈز جلد موصول ہونے کی توقع ہے۔ لہذا ترقیاتی محکمہ جات فوری طور پر فنڈز کے استعمال کا پروگرام مرتب کریں تاکہ بروقت فنڈز کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اضلاع میں تعینات جملہ ترقیاتی محکمہ جات کے آفیسران کو اپنے اپنے متعلقہ تعیناتی کے اضلاع میں موجود رہ کر کام کریں گے اور کوئی آفیسر بدوں اجازت مجاز اتھارٹی اسٹیشن نہیں چھوڑے گا۔ وزیراعظم نے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ وضع کردہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔منصوبہ جات کو تصریحات اور معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ وزیراعظم نے نیلم سے تاؤ بٹ روڈ کو موجودہ مالی سال میں ہی مکمل کرنے کی محکمہ شاہرات کو ہدایت کی۔ اس سلسلہ میں حکومت موجودہ مالی سال میں جملہ مطلوبہ فنڈز مہیا کرے گی۔ نیلم کا ضلع سیاحتی مقام کا درجہ رکھتا ہے۔ سڑک کی بہتری ٹورازم کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے سیکرٹری سیاحت کو ہدایت کی کہ محکمہ سیاحت کے جملہ فیلڈ آفیسران اپنے اپنے علاقوں میں نظر آنے چاہئیں۔ ریسٹ ہاؤسز میں تعینات ملازمین کک، ویٹرز اور چوکیدار اپنی اپنی جائے تعیناتی پر حاضرہوں۔غیر فعال ریسٹ ہاؤسز کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔ وزیراعظم آئندہ ایام میں ایسی تمام ٹورازم کی سہولیات کا اچانک اضلاع میں معائینہ کریں گے۔ وزیراعظم نے ریسٹ ہاؤسز کی سہولیات کو منافع بخش بنانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے جملہ ضلعی آفیسران کے لیے بھی ہدایت جاری کی کہ وہ سادگی کو اپنائیں اور عوام دوست رویہ اپنائیں۔ کسی بھی طرح ان کے برتاؤ سے جاہ و جلال و شان و شوکت نظر نہیں آنی چاہیے۔ ایسے آفیسران کے لیے اضلا ع میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی جو اصراف کو اختیار کریں گے۔ وزیراعظم نے سیکرٹری سکولز کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر جملہ سرکاری سکولوں کی کوآرڈینیٹرز کی مدد سے بریفنگ تیار کریں جس میں سکولوں کی تعداد، طلباء و طالبات کی تعداد، بجٹ اور فی طالب علم خرچ کی تفصیلات بریفنگ میں پیش کی جائیں۔ وزیراعظم نے سیکرٹری کالجز کو بھی ہدایت کی کہ وہ بھی اپنے شعبے سے متعلق بریفنگ کا اہتمام کریں۔وزیراعظم نے جملہ سیکرٹریز کو ہدایت دی کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں۔ وضع کردہ قوانین کی توجیح خود سے نہ کی جائے بلکہ قانون میں جس طرح لکھا گیا ہے اس کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بطور وزیراعظم اپنی ذات کو بھی احتساب کے لیے پیش کر دیا ہے اور ہر شہری وزیراعظم کے احکامات پر اعتراض اٹھا سکتا ہے۔اسی طرح تمام ملازمین کو بھی قابل احتساب رہنا چاہیے۔وزیراعظم نے سیکرٹری اطلاعات کو بھی ہدایت کی کہ محکمہ اطلاعات اپوزیشن کو بھی مناسب کوریج دیا کرے۔اجلاس میں موسٹ سینئر وزیر کرنل (ر) وقار احمد نور اور وزیر حکومت راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ خبریں