مظفرآباد(سٹاف رپورٹر)صدر پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم آزاد کشمیرسردار عبدالقیوم نیازی نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے بھارت میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے مقبو ضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں ہونے والی جی 20کانفرنس میں اقوام متحدہ کے رکن کو بائیکاٹ کرنا چاہیے کیونکہ ریاست جموں کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کااقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق فیصلہ ہونا باقی ہے۔سرینگر میں بھارت جی۔20ممالک کی کانفرنس کروا کر یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ ہیں۔کشمیریوں پر غاصب بھارت نے ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔ایسے وقت میں ہمارے وزیر خارجہ کا دورہ بھارت کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔جی۔20میں شامل مسلم ممالک کے نمائندوں کشمیریوں کا پیغام دیتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کا نمائندہ بن کر بھارت میں بیٹھ کر مظلم کشمیریوں کے حق کی آواز اٹھائیں۔کشمیریوں کے مسئلے کو آسان سمجھ کر ہر جگہ نہ بیٹھا جائے کیونکہ جہاں ظلم ہوتا ہو وہاں ہمدردوں کا ظالم کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں۔اگر وزیر خارجہ پاکستان کا جی۔20کانفرنس میں جانا بہت ہی ضروری ہے تو انہیں بھٹو والا کردار ادا کرنا ہو گا اگر بلاول والا کردار ادا کر کے واپس آئے تو کشمیری انہیں معاف نہیں کرینگے۔ان خیالات کا اظہار صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر وسابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے مرکزی ایوان صحافت میں میاں اخلاق رسول، قاضی محمد اسرائیل،اظہر گیلانی، انصر پیرزادہ،ملک انصر سہیل،احمد مقبول مغل اور دیگر کارکنان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ برصغیر میں جب دو ملک بنے تو دونوں ملکوں کے مابین ریاست جموں وکشمیر کا تنازعہ بنا جس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا باقی ہے ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں جی۔20ممالک کی کانفرنس کا انعقاد پانچ اگست 2019کے ظالمانہ و غاصبانہ اقدام کی ایک کڑی ہے۔دنیا کو بھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہیے اور یہ بھی محسوس کرنا چاہیے کہ بھارت کیسے شاطرانہ سرینگر میں کانفرنس کا انعقاد کر کے ایک متازعہ ریاست کواپنا حصہ قرار دلوانے کا خواں ہے۔ایل او سی پر بھمبر سے نیلم تک کے دس لاکھ لوگوں سمیت ریاست جموں وکشمیر کی جملہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت نے پانچ اگست 2019کے بعد ایک بڑا ظلم سرینگر میں کانفرنس بلا کر کیا ہے۔پاکستان ہمارا سفیر ہے اور افواج پاکستان ہمارے دفاع کیلئے ایل او سی پر کھڑی ہیں۔کلمہ کی بنیاد پر پاکستان سے ہمارا رشتہ ہے اور یہی کلمہ پوری امت مسلمہ کو بھی جوڑتا ہے مسلمان بھائیوں کو دنیا بھر میں کہیں بھی تکلیف ہو تو پوری امت مسلمہ کو درد محسوس کرنا چاہیے کشمیریوں کا درد امت مسلمہ کی جانب سے محسوس نہ کرنا لمحہ فکریہ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے ہماری آوازیں اور ہم ان کی چیخیں سنتے ہیں یہ سمجھنے والی بات ہے کہ ہم باتیں کیا کرتے ہیں اور کشمیریوں کی چیخوں کا درد کیا ہے پاکستان تحریک انصاف ہر فورم پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے کشمیریوں کی آواز بنے گی۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر خارجہ پاکستان کو بھارت میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں جانا انتہائی ضروری ہی تھا تو انہیں اجلاس میں شرکت سے قبل آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور حریت رہنماؤں کو اعتماد میں لیکر جانا چاہیے تھا۔

متعلقہ خبریں