اسلام آباد(بیورو رپورٹ)صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے سرینگر میں G-20 ممالک کے ٹورازم ورکنگ گروپ کی 22مئی سے 24مئی تک ہونے والی میٹنگ میں ان ممالک کو شرکت نہ کرنے کے حوالے سے اسلام آباد میں تعینات G-20 ممالک کے سفیروں کو ایک مکتوب لکھ دیا ہے جس میں صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے ان ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر جو کہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس میں بھارت نے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی جاری رکھی ہوئی ہے اور بھارت سرینگر میں 22سے 24مئی کے دوران منعقد ہونے والیG-20ممالک کے ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ کا انعقاد کر کے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک پرامن علاقہ ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور وہاں پر بھارت کی طرف سے ظلم و بربریت عروج پر ہے اور کشمیری عوام کو سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے G-20ممالک کے سفیروں کے نام اپنے اس مکتوب میں مزید کہا ہے کہ میں بحیثیت کشمیری عوام کے نمائندے کے دنیا بالخصوص G-20ممالک کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جموں وکشمیر پر قراردادیں اب بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہیں جبکہ بھارت نے پانچ اگست 2019ء کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے تبدیلیاں شروع کر دیں ہیں اور وہاں پر انٹرنیشنل کمیونٹی کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہا ہے جیسے مقبوضہ کشمیر ایک پرامن علاقہ ہے جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے اوروہاں پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے۔اسی طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کر رکھی ہے جبکہ وہاں پر اظہار رائے کی آزادی، احتجاج کو تشدد کے ذریعے دبا رکھا ہے اور اسی طرح حریت رہنماؤں کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے۔ لہذا اس موقع پر میں انٹرنیشنل کمیونٹی بالخصوص G-20کے ممالک کی توجہ جہاں مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی جانب مبذول کرا رہا ہوں وہاں پر میں G-20کے رکن ممالک سے یہ اپیل کروں گا کہ وہ 22مئی سے24مئی تک سرینگر میں G-20ممالک کے ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ میں ہر گز شرکت نہ کریں۔ اس موقع پر میں 14ملین کشمیریوں کے نمائندے کی حیثیت سے یہ امیدکرتا ہوں کہ G-20ممالک کی حکومتیں مقبوضہ کشمیر میں اس کانفرنس کے انعقاد پر بھارت کی شدید مذمت کریں گی اور مقبوضہ کشمیر جو کہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ منتازعہ علاقہ ہے میں منعقد ہونے والی G-20ممالک کے ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ میں شرکت سے گریز کریں گے جبکہ بھارت پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ متنازعہ علاقے سے اپنا جابرانہ تسلط ختم کرے اور مسئلہ کشمیر حل کرے۔

متعلقہ خبریں