تھیلسیما کے 550مریض علاج معالجہ کیلئے ترس گئے،بھوک ہڑتال کا اعلان

مظفرآباد(سیاست نیوز) تھیلیسمیا کا عالمی دن آزاد کشمیر کے 550تھیلیسمیا کے مریضوں کے لیے علاج معالجے کی کوئی سہولت نہیں۔ادویات خون اور سٹاف کی کمی تھیلیسمیاں کے مریضوں کی مشکلات میں اضافے کا سبب بننے لگیں ایک ماہ کے اندر مطلوبہ کی عدم فراہمی پر مریضوں نے بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا۔گزشتہ روز سنٹرل پریس کلب میں تھیلیسمیا کے مریض بچوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ تنویر احمد ستی،رضا کار احتشام اور دیگر نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں تھیلیسمیا کے مریض بچوں کی تعداد 550جبکہ مظفرآباد میں 92ہے جنہیں سات،پندرہ اور تیس دن کے بعد اور نعض اوقات ہنگامی بنیادوں پر خون لگایا جاتا ہے،ایمز ہسپتال میں قائم تھیلیسمیا سنٹر پر صرف تین افراد پر مشتمل سٹاف ہے جبکہ ادویات سمیت ٹیسٹوں کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے یہی سٹاف خون کے حصول کے لیے مختلف تعلیمی اداروں اور علاقوں کے اندر کیمپ ک انعقاد کر کے خون گٹھا کتا ہے جبکہ بہشتر اعوات مریضوں کے لواحقین ہی خون کا انتظام کرتے ہیں سنیٹر،پرچیئر،کنولا کی سہولت میسر ہے تھیلیسمیا کے مریضوں اور ورثا نے وزیراعظم،وزیر صحت سے تھیلیسمیا سنٹر کا دورہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے دو سال قبل مریض بچوں کے لیے پانچ کروڑ روپے کا علان کیا تھا جس سے ہر چھ ماہ بعد ہر بچے کو تیس ہزار روپے نقدی دینا تھے جس میں سے صرف چار بچوں کو ایک مرتبہ تیس ہزار روپے کے حساب سے دیے گئے بقایا رقم کہاں خرچ ہوئی اس کا علم نہیں ورثا نے بتایا کہ بیت المال سے سال2011میں ایک مریض کے نام پر 53ہزار کا چک جاری ہوا جو آج تک نہیں ملا انہوں نے مطالبہ کیا کہ سنٹر پر سٹاف اور ادویات کی کمی دور کرتے ہوئے ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائے خون کی کمی دور کرنے اور مریضوں کے لیے وزیراعظم کی اعلان کردہ رقم یقینی بنائی جائے بصورت دیگر مریض اپنی زندگی بچانے کے لیے بھوک ہڑتال پر مجبور ہوں گے اس سے قبل تھیلیسمیا کا شکار بچون نے ساتھرہ موڑ سے پریس کلب تک واک کا انعقاد کیا جسمیں مریض بچوں نے پلے کارڈ اٹھا کر معاشرے کی توجہ مبذول کروائی۔

متعلقہ خبریں